نئی دہلی 16/جون (ایس او نیوز/ایجنسی)
مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں چینی فوج کے ساتھ جھڑپ میں ایک کرنل سمیت کم از کم 20 بھارتی فوجی مارے گئے ہیں۔ بھارتی فوج نے دیر شام اس کی تصدیق کی۔اس سے قبل منگل صبح ابتدائی بیان میں آرمی کی طرف سے کہا گیا تھا چینی فوج کے ساتھ جھڑپ میں ایک آفسر اور دو فوجی سمیت تین لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے، مگر شام کو مزید 17 لوگوں کی موت کی خبر دی گئی۔آرمی نے اپنے بیان میں کہا کہ 15 اور 16 جون کی درمیانی شب کو گلوان کے علاقے میں دونوں طرف کے فوجیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہوئی تھی جس میں 17 ہندوستانی فوجی بری طرح زخمی ہوئے تھے جن کی بعد میں موت واقع ہوگئی۔ اس طرح، اس جھڑپ میں ہندوستان کے کل 20 فوجی مارے گئے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ فوجیوں کی ہلاکت گولی لگنے سے نہیں ہوئی بلکہ پتھراؤ اور لاٹھیوں کے ذریعے لڑائی میں بھارتی فوجی مارے گئے ہیں۔
فوج نے بتایا کہ اب گلوان کے اس علاقے میں دونوں فوجیں آمنے سامنے نہیں ہیں جہاں تصادم ہوا تھا۔ آرمی نے کہا کہ بھارتی فوج ملک کی خودمختاری اور علاقائی اتحاد کے لئے پرعزم ہے۔
اس سے قبل جب ایک افسر سمیت تین فوجیوں کی شہادت کی خبر آئی تھی تو دہلی میں میٹنگوں کا دور شروع ہوگیا تھا، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے منگل کے روز لداخ کی صورتحال کے بارے میں دو بار جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ پیر کی دیر شام ہونے والی اس جھڑپ میں دونوں فریقوں کو نقصان ہوا ہے۔ بھارت میں 20 فوجیوں کی موت کی خبر کے بعداُدھر چین کو بھی دوگنا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق جھڑپ کے بعد چین کے 43 فوجی بھی مارے گئے ہیں۔ تاہم ، چین نے باضابطہ طور پر اس بات کو قبول نہیں کیا ہے۔
جھڑپ میں ہندوستان کے جن تین فوجی آفسران کی موت واقع ہوئی ہے، اُن میں ایک کرنل بھی شامل ہے جن کی شناخت تلنگانہ کے سوریا پیٹ کے رہنے والے 37 سالہ کولونیل سنتوش بابو کی حیثیت سے کی گئی ہے اسی طرح ددسرے فوجی کی شناخت تمل ناڈو کے حویلدار پالانی اور تیسرے فوجی کی شناخت جھارکھنڈ کے سیپوئی کے کے اوجھا کی حیثیت سے کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ دونوں فوجوں میں گزشتہ ماہ بھی لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر اسی طرح سنگ باری کے واقعات پیش آئے تھے جن میں دونوں جانب کے کئی اہلکار شدید زخمی ہوئے تھے۔
فوجیوں کی ہلاکت کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان 5 دہائیوں بعد سامنے آیا ہے ، اس سے قبل آخری بار ارونا چل پردیش کی سرحد پر دونوں فوجوں میں مسلح تصادم ہوا تھا۔